تعلیماردو خبریں

جامعہ کراچی میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے سیمینار کا انعقاد

بچوں کی شخصیت کو سنوارنے یا بگاڑنے میں گھر کے ماحول اور فریقین کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں تربیت کا بہت بڑافقدان ہے۔ ڈاکٹر نعمان احسن

عورت معاشرے کا ایسا ستون ہے جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی یافتہ، تہذیب یافتہ نہیں ہوسکتا۔ ڈاکٹر خالد عراقی

اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیئے ہیں کسی اور معاشرے میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ڈاکٹر شائستہ تبسم

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) سندھ ایچ ای سی کے ڈائریکٹر جنرل چارٹر انسپکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی ڈاکٹر نعمان احسن نے کہا کہ ایک پڑھی لکھی ماں ایک پڑھے لکھے گھرانے کی ضمانت ہوتی ہے، کیونکہ ایک باعلم و باشعور ماں ہی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت احسن طریقے سے کرسکتی ہے۔ بچوں کی شخصیت کو سنوارنے یا بگاڑنے میں گھر کے ماحول اور فریقین کا سب سے بڑا عمل دخل ہوتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں تربیت کا بہت بڑا فقدان ہے جس کے اثرات آپ سب کے سامنے ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بیرون ممالک میں ان کے قوانین پر عملدرآمد اور قطار میں کھڑے رہنے کو تیار ہوتے ہیں لیکن اپنے ملک میں قوانین پر عملدرآمد اور قطار میں کھڑے ہونے کے بچائے غلط طریقوں سے اپنے کام سرانجام دینا پسند کرتے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اور سندھ ایچ ای سی، اسٹوڈنٹس ایڈوائزر آفس جامعہ کراچی و آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن،

کلیہ قانون جامعہ کراچی کے اشتراک سے عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان”دختران پاکستان: صنفی مساوات کا فروغ، معاشی طور پر بااختیار بنانا اور امن کی تعمیر و ادراک کا انتظام“کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ صنفی مساوات کے فروغ اور خواتین کو بااختیار بنائے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ تعلیم پر خرچ کی جانے والی رقم اخراجات نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے، ہمارے مستقبل کا انحصار اس نظامِ تعلیم پر ہوگا جو ہم وضع کریں گے کیونکہ کوالٹی ایجوکیشن کے بغیر ہم اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکتے۔

بانی پاکستان نے تعلیم کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا لیکن بدقسمتی سے تعلیم ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات شامل نہیں جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے بہت تیزی سے کام ہورہا ہے لیکن ابھی اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، خواتین کو اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ عورت معاشرے کا ایسا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button

Warning: Undefined array key 0 in /home/aurdu/public_html/wp-content/plugins/text-to-audio/includes/TTA_Helper.php on line 336