اردو خبریںکالم

مسجدِ کوفہ کی تاریخی حیثیت

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: مسجدِ کوفہ کی تاریخی حیثیت۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

رمضان المبارک کی بابرکت مہینہ کی نسبت آج اپنے معزز قارئین کی خدمت میں مسجدِ کوفہ کی تاریخی حیثیت کے بارے میں قلم بینی کی کوشش کرونگا ، میرے لکھنے میں کہیں غلطی ھوجائے تو معاف کردیئے گا۔

معزز قارئین!!

مسجد کوفہ جہاں مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم کو نماز فجر کے وقت شہید کیا گیا تھا۔ اب اس مقام پر کوفہ کی جامع مسجد تعمیر ہے اور دیگر مقامات بھی موجود ہیں،

مسجد جامع کوفہ، عالم اسلام کی عظیم مساجد میں سے ہے۔ شیعیان اہل بیتؑ کے مطابق یہ مسجد الحرام، مسجد النبیؐ اور مسجد الاقصی کے بعد چوتھی اہم مسجد ہے جو عراق کے زیارتی شہر کوفہ کے قدیم ترین اور اہم ترین آثار میں سے ہے بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے حضرت آدمؑ نے مسجد کوفہ کی بنیاد رکھی اور اس کو وسیع قطعۂ زمین پر تعمیر کیا اور حضرت نوحؑ نے طوفان کے بعد اس کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔ سنہ سترہ ہجری قمری میں مسلمانوں نے کوفہ کا رخ کیا تو سعد بن ابی وقاص نے دارالامارہ کی تعمیر کیساتھ ساتھ سلمان فارسی کی تجویز پر اس مسجد کی تعمیر کا دوبارہ اہتمام کیا۔ انسانی تاریخ کے آغاز سے متعدد انبیائے رسول، پیغمبر اسلامؐ، امیر المؤمنین و اجمعین کرام، امام حسنؑ اور امام حسینؑ اور بعض دوسرے ائمہؑ اس مسجد میں حاضر ہوئے ہیں۔

سنہ چھتیس ہجری میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم یہاں آئے تو اس مسجد کی اہمیت اور اس کی طرف توجہ میں زبردست اضافہ ہوا۔ امیر المؤمنینؑ نے بار ہا اس مسجد میں نماز کیلئے قیام کیا، اسکے منبر پر خطبے دیئے، بعض امور میں فیصلے کئے اور نظام حکومت کا انتظام و اہتمام کیا اور آخرکار اس کی محراب میں جام شہادت نوش فرمایا۔۔۔۔ معزز قارئین!! مسجد کوفہ کے قریب، میثم تمار کا مقبرہ، امیرالمؤمنینؑ کا گھر، مسلم بن عقیل، ہانی بن عروہ و مختار ثقفی کے مراقد اور کوفہ کا دارامارہ، واقع ہیں۔ اس مسجد میں متعدد مقامات ہیں اور ان میں سے بہت سے مقامات پر مسجد کے معنوی اور روحانی اعمال انجام پاتے ہیں۔ اس مسجد کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ مسافرین مسجد الحرام، مسجد النبیؐ اور حرم امام حسینؑ کیساتھ ساتھ اس میں بھی نماز پوری یا قصر پڑھ سکتے ہیں۔

مسجد کوفہ کی فضیلت میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں جن کیمطابق مسجد کوفہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ جو شخص اس مسجد میں داخل ہوجائے وہ مغفورلہ یعنی بخشا ہوا ہے۔ شہر کوفہ امام زمانہ عج کا دارالخلافہ اور مسجد کوفہ آپ عج کی حکمرانی و فرمانروائی کا مرکز ہے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! کوفہ عراق کے شہروں میں سے ایک ہے جو اس ملک کے جنوب میں نجف اشرف سے دس کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع ہے، یہ شہر دریائے فرات کے کنارے بنایا گیا ہے، کوفہ کی آب و ہوا معتدل ہے اور ماضی بعید سے ایک سرسبز و شاداب ہے۔ اس شہر کی آخری بار تعمیر سے صدیوں قبل یہاں مختلف قومیں زندگی بسر کرتی رہی ہیں؛ روایات میں ہے کہ طوفان نوح کا آغاز اسی شہر سے ہوا۔

کوفہ ابتداء میں سورستان کہلاتا تھا۔ سنہ سترہ ہجری قمری میں، بصرہ کی بنیاد رکھے جانے کے چند ماہ بعد، سعد بن ابی وقاص نے عمر کے حکم پر اس شہر کو آباد کیا تاکہ یہ فتوحات کے زمانے میں جنگجؤوں اور عسکری دستوں کا مسکن ہو اور وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اس شہر میں قیام کریں۔ کوفہ ابتداء میں مختلف محلوں میں تقسیم ہوا تھا اور ہر محلہ ایک قبیلے کے پاس ہوتا تھا لیکن یہ شہر زیادہ تر ایک فوجی چھاؤنی سے شباہت رکھتا تھا اور اس کے گھر پیال اور چٹائیوں کے بنے ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد ایک بڑی آتشزدگی میں یہ تمام گھر جل کر راکھ ہوئے اور اینٹوں کے گھروں نے پرانے گھروں کی جگہ لی۔

یہ شہر مختصر سے عرصے میں اہم اسلامی شہروں میں تبدیل ہوا اور اسکو بہت سے حوادث و وقائع دیکھنے پڑے۔ مسجد کوفہ بھی جس میں امیرالمؤمنینؑ شہید ہوئے تھے اسی دور میں تعمیر ہوئی۔ اس مسجد کا رقبہ اس قدر زیادہ تھا کہ اس میں کوفہ میں مقیم تمام جنگجؤوں کی گنجائش تھی۔ کوفہ امیر المؤمنینؑ کے دور میں امیر المؤمنینؑ نے خلافت سنبھالی تو آپؑ نے کوفہ کو اسلامی حکومت کا دارالخلافہ قرار دیا اور باوجود اسکے کہ امام حسن علیہ السلام کے بعد کبھی بھی دارالخلافہ نہ رہا لیکن اسکی اہمیت بحال رہی اور عرصہ دراز تک عالم اسلام کے اہم علمی، فنی بالخصوص فقہی اور ادبی مراکز میں شمار ہوتا رہا۔ تاہم نجف اشرف کو ترقی، توسیع اور اہمیت ملی تو اس کی رونق میں رفتہ رفتہ کمی آئی۔

آج کوفہ نجف کے قریب ایک چھوٹا سا شہر ہے اور اسکی ابتدائی رونق نظر نہیں آتی۔۔۔ معزز قارئین!! شہر کوفہ کی فضیلت کے بارے میں قرآن کریم میں بعض آیات نازل ہوئی ہیں؛ منجملہ سورہ تین کی پہلی تین آیات، جہاں ارشاد ہوتا ہے: وَالتِّینِ وَالزَّیتُونِ (1) وَطُورِ سِینِینَ (2) وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِینِ (3)۔ ترجمہ: قسم ہے انجیر اور زیتون کی (1) اور طور سینا (2) اور امن وامان والے شہر مکہ کی (3)؛ ۔۔۔۔ رسول اللہؐ سے منقولہ حدیث کے مطابق ان آیات میں “تین” سے مراد مدینہ، “زیتون” سے مراد بیت المقدس، “طور سینین” سے مراد “کوفہ” اور “هَذَا الْبَلَدِ الْأَمِینِ” سے مراد مکہ ہے۔۔۔۔

معزز قارئین!!

قرآن کی آیات کریمہ کے علاوہ رسول اللہؐ اور ائمۂ معصومینؑ سے مروی احادیث میں بھی شہر کوفہ کی فضیلت اور مدح بیان ہوئی ہے؛ جیسے “کوفہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے”، “حضرت نوحؑ سمیت تین سو ستر انبیاء اور سید الاوصیاء امام علیؑ سمیت چھ سو اوصیاء کی قبریں اس شہر میں واقع ہیں۔۔۔ معزز قارئین!! شہر کوفہ کا قدیم ترین اور اہم ترین زیارتی اثر “مسجد کوفہ” ہے۔ کوفہ کی جامع مسجد، مسجد الحرام، مسجد النبیؐ اور مسجد الاقصی کے بعد عالم اسلام کی چوتھی بڑی مسجد ہے ۔۔۔۔

معزز قارئین!!

مسجد کوفہ کی لمبائی ایک سو دس میٹر اور چوڑائی ایک سو ایک میٹر جبکہ اس کا رقبہ گیارہ ہزار ایک سو دس میٹر اور بقول گیارہ ہزار ایک سو باسٹھ میٹر مربع ہے اور اسکو دس میٹر اونچی دیواروں سے محفوظ بنائی گئی ہے۔ مسجد کی کھلی فضا کا رقبہ پانچ ہزار چھ سو بیالیس میٹر مربع اور اس کے شبستانوں کا رقبہ پانچ ہزار پانچ سو بیس میٹر مربع ہے۔ اس مسجد کے ستونوں کی تعداد ایک سو ستاسی اور میناروں کی تعداد چار ہے جن کی اونچائی تیس میٹر ہے۔ مسجد کوفہ کے دروازے پانچ ہیں؛ جو “باب الحجہ باب الرئیسی، باب الثعبان، باب الرحمہ، باب مسلم ابن عقیل اور باب ہانی بن عروہ” ہے۔ مسجد کوفہ کی تاسیس احادیث کیمطابق حضرت آدمؑ نے کی ہے اور بعد ازاں حضرت نوحؑ نے طوفان کے بعد اس کی تعمیر نو کی۔۔۔۔

معزز قارئین!!

سنہ سترہ ہجری قمری میں لشکر اسلام مدائن میں موجود تھا۔ مدائن کی آب و ہوا حجاز سے آئے ہوئے فوجیوں کیلئے تکلیف دہ تھی؛ یہاں تک کہ انکے جسم ضعیف و لاغر ہوچکے تھے۔ حذیفہ بن یمان نے یہ حال دیکھا تو عمر بن خطاب کو خط لکھا اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ خلیفہ نے سعید بن وقاص کے نام اپنے خط میں لکھا: “سلمان فارسی اور حذیفہ کو روانہ کرو تاکہ وہ مناسب سرزمین کا سراغ لگائیں”۔ خط وصول ہونے کے بعد سلمان اور حذیفہ روانہ ہوگئے۔ سلمان دریائے فرات کے مغربی ساحل پر اور حذیفہ مشرقی ساحل پر اور انہیں کوئی بھی سرزمین پسند نہ آئی حتی کہ دونوں سرزمین کوفہ پہنچے۔ دونوں نے اس سرزمین کو لشکر کے قیام کیلئے مناسب پایا۔ دونوں نے دو دو رکعت نماز پڑھی اور اللہ سے التجا کی کہ اس سرزمین کو سکون اور استقامت کا مقام قرار دے۔ جب سعد بن ابی وقاص مسلمانوں کے لشکر کے ہمراہ کوفہ پہنچے تو حکم دیا کہ ہر عمارت کی تعمیر سے قبل مسجد بنائیں۔ ابو ہیجاء اسدى ایک مقام پر کھڑا ہوا اور ہر سمت ایک تیر پھینکا اور یوں مسجد کوفہ کی حدود کا تعین ہوا۔

تاریخ کے مختلف مراحل میں متعدد انبیائے الہی، پیغمبر اسلامؐ، امیر المؤمنین علیہ السلام، امام حسنؑ اور امام حسینؑ اور بعض دوسرے ائمہؑ اس مسجد میں حاضر ہوئے اور سنہ چھتیس ہجری میں امام علی علیہ السلام یہاں آئے تو اس مسجد کی اہمیت اور اسکی طرف توجہ میں زبردست اضافہ ہوا۔ مسجد کوفہ اپنی تاسیس یا تجدید سے ہی شہر کا ایک علمی و ثقافتی مرکز سمجھی جاتی تھی۔ سنہ چھتیس ہجری قمری میں امام علی علیہ السلام کوفہ آئے تو سب سے پہلے مسجد میں حاضر ہوئے اور وہاں لوگوں سے خطاب کیا۔ امامؑ کوفہ میں مقیم ہونے کے بعد مسجد کوفہ میں تفسیر قرآن اور دیگر علوم کی تدریس کیا کرتے تھے۔ عبداللہ بن عباس اور کمیل بن زیاد جیسے بہت سے شاگردوں نے آپؑ سے فیض حاصل کیا۔ یاد رھے کہ مسجد کوفہ میں فرض نماز دیگر دوسرے مقامات سے ستر فرض نمازوں سے افضل ہے۔

جس طرح کہ مسجد الحرام کعبہ اللہ کا حرم امن ہے اور کربلا میں حائر واقع ہوا ہے، مدینہ کی بھی حدود اور حریم، ہیں، مسجد کوفہ کی بھی حدود اور حریم، ہیں۔ علامہ مجلسی بحار الانوار میں سند کیساتھ، روایت کرتے ہیں کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں: مکہ خدا کا حرم ہے، مدینہ حضرت محمدؐ کا حرم ہے اور کوفہ حضرت علیؑ کا حرم ہے اور امیر المؤمنینؑ نے کوفہ کی اتنی ہی حدود کو حرم قرار دیا جتنی کہ حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کے لئے اور حضرت محمدؐ نے مدینہ کیلئے حرم قرار دی تھیں۔

جس طرح کہ متعدد پیغمبر کربلا سے گذرے ہیں نیز جس طرح کہ انبیائے الہی اور اور انکے اوصیاء کربلا اور مسجد الحرام میں مدفون ہوئے ہیں، بہت سے انبیاء نے کوفہ اور اسکی مسجد میں نماز ادا کی ہے اور تین سو ستر پیغمبر اور چھ سو اوصیاء کوفہ میں مدفون ہیں۔ چونکہ مسجد کوفہ اور شہر کوفہ کو خاص قسم کا تقدس حاصل ہے اور مسجد کوفہ پر خداوند متعال، انبیاء اور فرشتوں کی خاص توجہ اور عنایت کی بنا پر، نیز یہ کہ شہر کوفہ احادیث کے مطابق امام زمانہ عج کا دارالخلافہ اور مسجد کوفہ آپ عج کے فوجی امراء کا مرکز ہے،

اور چونکہ حضرت آدم علیہ السلام نے اس مسجد کو بہت وسیع بنایا تھا ظاہر یوں ہوتا ہے کہ خداوند تبارک و تعالی نے امام زمانہ عج کے ظہور کے پیش نظر، اس علاقے کو پہلے ہی سے آپ عج کی عالمی حکومت کیلئے مہیا فرمایا ہے اور مسجد کوفہ امام زمانہ عج کا مقام نماز ہوگی۔

اسی مقام پر اسرافیل صور میں پھونکیں گے تاکہ مردے زندہ ہوجائیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی منزل۔ اس مقام سے ستر ہزار افراد محشور ہونگے اور حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہونگے۔ مسجد کوفہ میں بغیر تلاوت کے بیٹھنا بھی عبادت ہے۔ مسلم اور ہانی کی شہادت کے بعد قبیلۂ مذحج نے ابن زیاد کی اجازت سے ان دو کی میتوں کو دارالامارہ کے قریب دفنا دیا؛ شاید اس مقام کو اس لئے ان کی تدفین کیلئے منتخب کیا کہ انکی قبروں پر حکومت کی نگرانی ممکن ہو۔ سنہ پینسٹھ ہجری تک انکی قبروں پر کوئی سائبان نہ تھا۔ اس سال مختار ثقفی نے مسلم بن عقیل کے مرقد پر پہلی عمارت تعمیر کرنے کا حکم دیا اور انکے مرقد کیلئے حرم قرار دیا اور گنبد و بارگاہ کی بنیاد رکھی اور انکے ناموں کو سنگ مرمر کے تختوں پر کندہ کرایا اور تختوں کو انکی قبروں پر رکھوایا۔

سنہ تین سو اڑسٹھ ہجری قمری میں آل بویہ کے حکمران عضد الدولہ دیلمی نے مسلم بن عقیل کے حرم و بارگاہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔ انھوں نے اطراف کے گھروں کو حرم قرار دیا اور آستانے کی مجاورت میں رہنے والے خاندانوں کیلئے ماہانہ تنخواہ مقرر کردی۔ سنہ چھ سو چھپن ہجری قمری میں محمد بن محمود رازی نے آستانے کی تعمیر نو کا انتظام کیا۔ سنہ بارہ سو تریسٹھ ہجری قمری میں آیت اللہ محمد حسن صاحب جواہر، نے آستانے میں بنیادی تعمیرات کا اہتمام کیا۔

سنہ تیرہ سو چوراسی ہجری قمری میں آیت اللہ سید محسن حکیم آستانے کی تعمیر نو کا حکم دیا اور حاج محمد رشاد کے زیر اہتمام حرم کے گنبد پر طلا کاری کا کام انجام پایا اور اس منصوبے پر ایک لاکھ اسی ہزار عراقی دینار، کی لاگت آئی۔ مسلم اور ہانی کی شہادت کے بعد قبیلۂ مذحج نے ابن زیاد سے اجازت لی اور ان دو بزرگواروں کو دارالامارہ کے قریب سپرد خاک کیا۔ بعض روایات کیمطابق،

ان دونوں کی میتیں کئی روز تک زمین پر پڑی رہیں یہاں تک کہ میثم تمار کی زوجہ نے رات کے وقت جبکہ سب سو رہے تھے، انہیں اپنے گھر منتقل کیا اور آدھی رات کو انہیں مسجد کوفہ کے قریب سپرد خاک کردیا۔ ہانی بن عروہ کے حرم کی تعمیر کی تاریخ تقریبا مسلم کے حرم کے ساتھ مشترک ہے۔ مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کی قبر اس وقت مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کے ساتھ قریب واقع ہے۔۔۔۔۔!!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button

Warning: Undefined array key 0 in /home/aurdu/public_html/wp-content/plugins/text-to-audio/includes/TTA_Helper.php on line 336